مرکز
 
قرآن
 
رابطہ
 
صوتيات
  ڈاون لوڈ  
ميل
       
مشائخ امجديہ

مشائخ امجديہ

اس حقیقتِ مسلمہ سے کسی کو انکار نہیں کہ نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین حق کی تبلیغ اشاعت کا اہم فریضہ علمائے حق ومشائخ عظام ہی نے اپنی خدا داد صلاحیتوں کو بروئے کا لاتے ہوئے احسن طریقے سے ادا کیا ۔اورالعلماءورثة الانبیاءکے مصداق ہوئے۔انہی علماءومشائخ میں شیخ الحدیث والتفسیر علامہ عبدالمصطفیٰ الازہری علیہ الرحمہ ،مفتی وقار الدین قادری رضوی علیہ الرحمہ ،مفتی ظفر علی نعمانی علیہ الرحمہ(بانی جامعہ ہذا)شیخ الحدیث علامہ افتخار احمد قادری علیہ الرحمہ ،جامع المعقول والمنقول علامہ مختار احمد قادری علیہ الرحمہ شہید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی قد آور شخصیات بھی شامل ہیں۔ جنہوں نے خواہ سیاسی پلیٹ فارم ہو یا مذہبی یا سماجی ،ہر محاذ پر اپنی استطاعت کے مطابق اللہ تعالیٰکے بندوں کی اصلاح کا فریضہ انجام دیا ۔اور خوب خوب مسلک حق مسلک اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان محدث بریلوی کا پرچار کیا اور عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے فروغ کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا ۔ایوانوں میں بھی آواز حق بلند کیا اور اس قوت وشدت اخلاص سے و بے نیازی سے حق کا پرچار کیا کہ انبیاءکرام کی سیرتیں نظروں میں گھوم گئیں۔جب اور جہاں موقع ملا حق بات کا پرچار کیا حق گوئی کو زندگی کا نصب العین بنالیا تھا تو بہر طور نبھایا خوائے کوئے یار میں موقع ملا یا سوئے دار میں جانا پڑا ۔اب ان علماءربانیین کی سیرتوں کے چند تابندہ گوژے قارئین کرام کی زیر نظر کئے جاتے ہیں۔

مفتي ظفر علي نعماني عليہ الرحمہ باني دارالعلوم امجديہ

پیدائش

وہ عظیم شخصیت کہ جنہیں خلق خدا مفتی محمد ظفر علی نعمانی علیہ الرحمہ کے نام سے یاد کرتی ہے ،۵۱نومبر ۷۱۹۱ءمیں ہندوستان ،سید پور ضلع بلیا میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم کا اسم گرامی مولانا محمد ادریس تھا۔ امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمة سے محبت وعقیدت کی بناءپر آپ کی نسبت نعمانی ہے۔طریقت میں رشیدی و علیمی تھے اور یہ خاندان کئی پشتوں سے علمی ودینی اور دنیاوی دولت سے مالا مال ہے۔


تقریباً پانچ سال کی عمر میں پرائمری سکول ضلع بلیا سید پور میں داخلہ لیا اور دس برس کی عمر میں پرائمری تعلیم مکمل کرلی ۔اور پھر تحصیل علم دین میں مشغول ہوگئے اور شاہ پور بہار کے مدرسہ فیض الغرباءمیں داخلہ لیا ادارے کے مہتمم مولانا رحیمبخش قادری صاحب کی سرپرستی میں انتہائی قابل اساتذہ سے اکتساب فیض کیا اسکے بعد مزید تعلیم کے لئے جامعہ اشرفیہ مبارک پور تشریف لائے اور حافظ ملت حضرت علامہ حافظ عبدالعزیز صاحب محدث مبارک پوری کی خصوصی تربیت میں رہ کر تخصص فی الفقہ کی تکمیل کی ۔۲۴۹۱ءمیں علوم عقلیہ و نقلیہ سے فراغت حاصل کی ۔فراغت کے ساتھ جامعہ اشرفیہ میں ڈیڑھ سال تک خدمات سرانجام دیں اسکے بعد اپنے مرشد کامل صدرالشریعہ کے حکم پر کاٹھیا واڑ میں دارالعلوم اہلسنت میں مدرس ومفتی کے منصب پر فائز ہوئے۔

قیام پاکستان کے 1984ءمیں اپنے مرشد گرامی کے حکم پر کراچی میں تشریف لائے اور رہائش کے لئے آرام باغ میں ایک مکان خریدا۔جب مرشد گرامی کا وصال ہوا تو آپ نے اپنے رہائشی مکان میں ان کے نام پر دارالعلوم امجدیہ کے نام سے مدرسہ قائم کیا ۔مرور زمانہ کے ساتھ ضروریات کے پیش نظر طلباءکے لئے جگہ ناکافی ہوگئی ۔ چنانچہ مفتی صاحب نے ۰۶۹۱ءمیں عالمگیر روڈ پر ایک وسیع وعریض اور بلند و بالا مدرسہ کی بنیاد رکھی ۔جہاں سے تشنگان علم نے اپنی پیاس بجھائیں ۔آج الحمد للہ نہ صرف پاکستان میں بلکہ بیرون ملک میں بھی دارالعلوم امجدیہ عوم و خواص کی توجہ کا مرکز ہے۔آپ نے اپنی دور رس نگاہ سے ایسے اساتذہ کا انتخاب کیا جو نہ صرف ادارے کے ساتھ بلکہ دین اور مسلک کے ساتھ بھی مخلص ہوں جیسے شہزادہ صدرالشریعہ مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری علیہ الرحمہ جنہوں نے تا دم آخر اسی مدرسہ میں شیخ الحدیث کے فرائض سر انجام دئیے،مفتی اہل سنت مفتی وقارالدین صاحب علیہ الرحمہ ،علامہ عبدالمصطفیٰ الازہری صاحب کے بعد شیخ الحدیث رہے۔حضرت علامہ مولانا قاری مصلح الدین صاحب علیہ الرحمہ حضرت علامہ ۔۔۔۔۔قادری علیہ الرحمہ،حضرت علامہ مفتی شجاعت علی قادری علیہ الرحمہ،حضرت علامہ محمد حسن حقانی دامت برکاتہم العالیہ جو دارالعلوم امجدیہ کے کئی سال تک ناظم تعلیمات بھی رہ چکے ہیں اور آج کل دارالعلوم امجدیہ کی شاخ انوارالقرآن جامع مسجد مدنی گلشن اقبال کے ناظم و مہتمم ہیں۔ حضرت علامہ مفتی محمد حسین قادری علیہ الرحمہ (مفتی اعظم سکھر)حضرت مولانا استاذالقراءقاری خیر محمد چشتی صاحب دامت برکاتہم العالیہ (ہالینڈ)ان کے علاوہ وقت کے جید علماءکرام اس ادارے سے وابستہ رہے اور وابست ہیں ۔ جو اس ادارے کو اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلا کر بام عروج تک پہنچانے میں اہم کردار اداکررہے ہیں۔

سیاسی ومذہبی خدمات

آپ کو اپنے کاروبار سے جو رقم حاصل ہوتی اسے مدارس دینیہ پر خرچ کرتے،آ پ کے جگر گوشہ صاحبزادہ محمد ریحان امجد علی نعمانی آج بھی اپنے والد گرامی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مختلف مدارس دینیہ کی خدمت کررہے ہیں ۔ماہ رمضان المبارک میں مختلف مدارس دینیہ کے سفراءحضرات دارالعلوم امجدیہ میں قیام کرتے ہیں ان کی ہر ممکن مدد کی جاتی ہے۔ آپ کو سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں تھی مگر نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نفاذ اوراعلائے کلمة الحق کی خاطر علمائے کرام کے مشورے سے دو مرتبہ قومی اسمبلی کے الیکشن میں شریک ہوئے ۔سینٹ کے الیکشن میں بھی حصہ لیا اور بطور سینیٹر آپ نے نمایاں خدمات انجام دیں ۔ اسکے علاوہ مرکزی رویت ہلال کمیٹ پاکستان کے چئیر مین، سندھ زکوة کونسل کے رکن اور مسلسل چھ سال تک اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن رہے۔

وصال باکمال

مفتی صاحب علیہ الرحمة عجزو انکساری کا پیکر تھے آپ سے ملاقات کرنے والا یہی خیال کرتا کہ یہ سب سے زیادہ مجھ سے ہی محبت کرتے ہیں آپ اپنی علالت و۔۔۔۔کی پرواہ کئے بغیر روزانہ دارالعلوم تشریف لاتے رہے بلکہ مقام حیرت ہے کہ انتقال سے ایک روز پہلے یعنی ۹۱ رمضان المبارک ۴۲۴۱ھ بروز ہفتہ باقاعدہ دارالعلوم امجدیہ میں گزارا۔بہر صورت قانون قدرت ہے کہ کل نفس ذائقة الموت۔یعنی ہر جان کو موت آنی ہے۔مورخہ ۰۲ رمضان المبارک بروز اتوار ادھر مو ¿ذن نے صدائے آذان بلند کی ادھر اس عظیم شخصیت نے داعی اجل کو لبیک کہا اس طرح یہ آفتاب علم و فضل اور دین کا درد رکھنے ولی عظیم شخصیت ہم سے جدا ہو گئی۔

 

آپ کو اللہ تعالی نے ۵ صاحبزادے اور چھ صاحبزادیاں عطافرمائیں ۔تین صاحبزادے کم عمر ی میں ہی انتقال کرگئے ۔صاحبزادہ محمد ریحان امجد علی نعمانی سلمہ مہتمم دارالعلوم امجدیہ اور صاحبزادہ ذیشان صاحب اور چھ صاحبزادیاں بقید حیات ہیں۔صاحبزادہ محمد ریحان امجدعلی نعمانی سلمہ کی نظامت میں دارالعلوم امجدیہ (مرکزی ادارہ اہلسنت )آج فیضان مفتی محمد ظفر علی نعمانی علیہ الرحمہ کے فیض کو جاری وساری رکھے ہوئے ہیں۔(اللہم نور ضریحہ واجعل الجنة)
   
   
     
   
     
   
     
   
   
اہم ايام و واقعات
     
       

_______________________________________________________________________________________

View Web Site in English