![]() |
|||||||||||||||
| |
|||||||||||||||
![]() |
|||||||||||||||
مرکز |
قرآن |
رابطہ |
صوتيات |
ڈاون لوڈ | ميل |
||||||||||
|
|||||||||||||||
|
دارالعلوم امجدیہ کے متعلق گزارشات سے پہلے ایک اہم شخصیت کا ذکر ضروری ہے۔ جو غیر منقسم ہندوستان میں دشمنان اسلام سے تحریروتقریر کے ذریعے مصروف جہاد رہی جن کی ذات سے جامعہ منسوب ہے۔حضرت صدرالشریعہ مولانا امجد علی صاحب اعظمی رحمة اللہ علیہ کا نام نامی پاک و ہند کی علمی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ بانی دارالعلوم امجدیہدارالعلوم امجدیہ کے بانی علامہ مفتی محمد ظفر علی نعمانی رحمة اللہ علیہ 1918ء میں انڈیا کے شہر سید پور ضلع بلید میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر حاصل کی ۔بعد ازاں حضور صدر الشریعہ مولیٰنا امجد علی صاحب کے خلیفہ خاص مقرر ہوئے ۔قیام پاکستان کے بعد 1948ء میں آپ نے صدر الشریعة سے بنگال جانے کی اجازت مانگی تو استاذ محترم نے انکو بنگال کے بجائے کراچی جانے اور مدرسہ قائم کرنے کا مشورہ دیا ۔آپ کا لقب ناصر الرضویت ہے آپ حافظ عبدالعزیز محدث مبارکپوری کی نگرانی میں جامعہ اشرفیہ میں بحیثیت مدرس مقرر ہوئے اور زندگی بھر اہل سنت اور مدارس دینیہ کو دامے،درمے،سخنے،قدمے تقویت پہنچاتے رہے۔جس کا ثبوت آپ کے قائم کردہ مدارس اور ان کی شاخیں ہیں۔بے شمار مساجد کی سرپرستی میں آپکا حصہ رہا۔آپ اسلامی نظریاتی کونسل کے اور روئیت ہلال کمیٹی پاکستان کے چئیر مین بھی رہے۔ دارالعلوم امجدیہ کا قیامآزادی پاکستان کے بعد غیر منقسم ہندوستان سے لاکھوں مسلمان ہجرت کرکے پاکستان آئے ان میں اہلسنت وجماعت کے علماءاکرام مشائخ عظام اور قائدین بھی تھے کیونکہ علماءومشائخ وپیران عظام ہی آزادی تحریک پاکستان کے اصل محرک اور قائدین تھے۔پاکستان تشریف لاکر ان علماءکرام نے پاکستان میں دینی مدارس کی کمی کو شدت سے محسوس کیا اورسینکڑوں دینی مدارس قائم کئے ۔ اسی طرح تحریک پاکستان کے ایک سر گرم رضاکار فاضل نوجوان،حضرت صدرالشریعہ مولانا محمد امجد علی رحمة اللہ علیہ کے مرید خلیفہ اور داماد حضرت علامہ مفتی محمد ظفر علی صاحب نعمانی نے بھی بھارت سے کراچی ہجرت فرمائی اور 1948ءمیں اپنے رفقاءکے ہمراہ آرام باغ کراچی کے نزدیک گاڑی کھاتہ کے علاقے میں دوکمروں پر مشتمل ایک عمارت میں ایک دینی مدرسہ قائم کیا جس کا نام مفتی صاحب نے اپنے پیرومرشد کے نام پر دارالعلوم امجدیہ رکھا۔ تاسیس و تعمیردارالعلوم کو اپنے مرشد کامل کے اسم گرامی کے ساتھ منسوب کرنے کی برکت سے سینکڑوں تشنگان علم حدیث وقرآن ملک کے دور دراز علاقوں سے داخلے کیلئے آنے لگے ان میں سب سے پہلے طالب علم ایک نوجوان محمد حسین کھتری تھے جو بعد میں ملک کے ممتاز عالم دین اور مفتی اعظم سکھر کہلائے۔کچھ ہی عرصے کے بعد یہ جگہ درس وتدریس کے لئے ناکافی ہونے لگی ،لہذا 1960ءمیں دارالعلوم امجدیہ کے بانی و مہتمم حضرت علامہ مفتی ظفر علی نعمانی رحمة اللہ علیہ نے اپنے رفقاءاور اہل خیر حضرات کے تعاون سے وسائل کی کمی کے باوجود عالمگیر روڈ پر ایک قطعہ اراضی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اور جلد ہی محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد رحمة اللہ علیہ ،علامہ عبدالمصطفیٰ الازہری اور بانی مدرسہ مفتی محمد ظفر علی نعمانی صاحب کی موجودگی میں پیران پیر غوث الاعظم کے خانوادہ سجادہ نشین اور پاکستان میں مملکت عراق کے سفیر الشیخ عبدالقادر الگیلانی نے اس عظیم الشان اور بر شکوہ عمارت کا سنگ بنیاد رکھا اور اہلسنت کی یہ عظیم دینی درسگاہ جلد ہی تعمیری مراحل سے پایہ ¿ تکمیل تک پہنچی۔مدرسہ گاڑی کھاتہ سے اس عمارت میں منتقل کردیاگیا۔ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم سے اس وقت تک یہ مدرسہ دین اسلام کی سر بلندی میں قابل قدر خدمات انجام دے چکا ہے اوردارالعلوم امجدیہ کے فارغ التحصیل علماءکرام دنیا کے گوشہ گوشہ میں دین متین کی خدمات انجام دینے میں مصروف عمل ہیں۔ ↑
|
|||||||||||||||
![]() |
|||||||||||||||
![]() |
|||||||||||||||
![]() |
|||||||||||||||
![]() |
|||||||||||||||
|
اہم ايام و واقعات |
|||||||||||||||
| _______________________________________________________________________________________ View Web Site in English |
|||||||||||||||